اگر چوٹن ہے تو طلاق
سوال
میں نے یعنی عبدالسلام ایک روز کا واقعہ ہے کہ میرے بڑے بھائی سے اور مجھ سے جھگڑا ہو رہا تھا، جھگڑے کے دران میرے بڑے بھائی نے میری بیوی کو کہا کہ طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کرتی ہے، وقت ہوتا ہے تو کھانا کھا لیتی ہے، اس بات پر میں نے اسکی بیوی کو کہا کہ وہ چوٹن ہے، اس کے جواب میں میرے بڑے بھائی نے میری بیوی کو چوٹن کہا، میری بیوی نے کہا کہ میں نے ناشتہ نہیں کیا تھا، بچوں کو کھانا کھلا رہی تھی، اس پر میری والدہ نے کہا کہ ارے چلو، اس پر میں نے کہا کہ بس تمہاری بات مان لی، چوٹن ہے تو طلاق طلاق طلاق تینوں طلاق، میری والدہ…
جواب
اگر عبد السلام کی بیوی چوٹن ہے تو اس پر تین طلاق ہوگئی، ورنہ کوئی طلاق نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔