اگر ہم بستری کروں تو حرام کروں“کا حکم
سوال
ایک شخص کو ڈاکٹروں نے علاج کے سلسلہ میں ہم بستری کرنے سے منع کیا کہ کم از کم فائدہ ہونے کیلئے چالیس دن ہم بستر نہ ہونا، اس شخص نے ہم بستری سے بچنے کیلئے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں تجھ سے ہم بستری چالیس دن سے پہلے کروں تو حرام کروں اور یہ الفاظ کئی بار کہے، لیکن وہ اپنے نفس پر قابو نہ پا کر چالیس دن کے اندر ہی جماع کر بیٹھا، اور جب ایک مرتبہ کر لیا تو اس سے نے سوچا کہ اب بار بار کرنے میں کیا حرج ہے، لہذا بار بار کیا، اب سوال یہ ہے کہ اس شخص پر کیا جرم عائد ہو گا؟
جواب
جس شخص نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ اگر میں تجھ سے ہم بستری کروں چالیس دن سے پہلے تو حرام کروں، اسکے بعد چالیس دن سے پہلے ہم بستری کر لی، تو اس کے ذمہ قسم کا کفارہ لازم ہوگا، وہ یہ کہ دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر ہو کر کھانا کھلائے یا ان کو پہننے کے کپڑے دے، اتنی استطاعت نہ ہو تو تین روزے مسلسل رکھے ایک دفعہ ہم بستری کرنے کا یہ کفارہ ہے، اس کے بعد ہم بستری کرنے پر کوئی کفارہ نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔