اگر تو نہیں آئے گی تو تجھ کو ایک طلاق دو طلاق تین طلاق
سوال
زید نے ایک عورت سے شادی کی، عرصہ تک اتحاد واتفاق رہا، پھر جھگڑا رہنے لگا، ایک روز زید نے غصہ میں کہا کہ تم میرے پاس نہیں آؤ گی، اس طرح تین مرتبہ بلایا تو بیوی اسکے جواب میں کہتی ہے کہ جب تک جھگڑے کا فیصلہ نہیں ہوگا، میں آپکے پاس نہیں آؤں گی، تو زید نے کہا کہ اگر تو نہیں آئے گی تو تجھ کو ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق، عورت چھ ماہ کی حاملہ ہے، اگر زید اس کو پھر نکاح میں لانا چاہے تو کیا صورت ہوگی؟
جواب
ابھی طلاق نہیں ہوئی، کیونکہ زید نے طلاق کو شرط پر معلق کیا ہے، تنجیز طلاق نہیں ہوئی، لہذا تحقق شرط سے پہلے طلاق کا حکم نہیں ہوگا، اور جس شرط پر تعلیق کی ہے اس کیلئے قید نہیں لگائی کہ اگر فلاں وقت تک نہیں آئے گی، تو تجھ کو ایک طلاق دو طلاق تین طلاق، بلکہ مطلق رکھا ہے، اگر بیوی جھگڑے کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی آجاوے تو حسب سابق نکاح میں رہیگی، جدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی: واذا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔