نکاح کے بعد رخصتی سے قبل یہ شرط کہ اگر کسی عورت سے شادی کروں تو اس پر طلاق مغلظہ“
سوال
عمر نے اپنی لڑکی کا نکاح کر دینے کے بعد رخصتی سے قبل اپنے داماد زید کے سامنے یہ شرط رکھیں۔ (۱) اگر زید نے اس کی لڑکی کی حیات میں دوسری کوئی بھی شادی کی تو اس دوسری عورت پر طلاق مغلظہ۔ (۲) مہر بغیر عمر کی مرضی کے معاف نہ ہوگا۔ (۳) اگر لڑ کی پر ظلم وتعدی کیا گیا تو عمر طلاق دے سکتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ: (الف) کیا پہلی شرط کا وقوع زید کے دستخط کرنے پر ہو جائے گا؟ نیز یہ کہ ایسی شرط کا شریعت میں کیا اعتبار ہے؟ کیا شرط کرنے والا شرعاً گناہ گار ہے؟ (ب) اگر گناہ کا مرتکب ہے تو آیا صغیرہ کا یا کبیرہ کا؟ (ج)
جواب
(۱) شریعت کی طرف سے ہر مرد کو حسب ضرورت وقدرت ادائے حقوق چار شادی کرنیکی اجازت ہے، کسی کو یہ حق نہیں کہ اس حق شرعی کو مسلوب کرے اسلئے عمر کا زید سے یہ اقرار لینا کہ میری بیٹی کی موجودگی میں اگر دوسری شادی کی تو اس پر طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی، جائز نہیں، تاہم جب زید نے اس کو منظور کر لیا تو اب شرط کا پابند ہے، اور اگر اپنی موجودہ بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کریگا تو اس پر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔