الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

” ہمارے گھر سے نکل جا“سے طلاق کا حکم

سوال

ہندہ کا اپنے شوہر سے کسی امر میں جھگڑا ہوا، شوہر نے مارا پیٹا، گالی دی اور کہا کہ ہمارے گھر سے نکل جاؤ ہندہ گھر چلی آئی شوہر نے کہلا بھیجا کہ اب میرے یہاں نہ آئے، مگر دوسرے دن ہندہ کے والد ہندہ کو شوہر کے گھر پہنچانے گئے شوہر نے پھر کہا ہمارے گھر سے نکل جاؤ اور باپ کے سامنے مارنے لگا اور کہا حرام زادی! تم کو کل ہی گھر سے نکال دیا پھر کیوں آئی، داماد نے سسر کو پھر گالی دی اور کہا کہ تمہارے یہاں میں لینے نہیں گیا تھا، یہ پھر کیوں آئی، صورت مسئولہ میں طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

چونکہ شوہر کے لفظ” ہمارے گھر سے نکل جاؤ“بولتے وقت مذاکرۂ طلاق موجود ہے، اس لئے ایک طلاق بائن ہوگئی، عدت کے بعد لڑکی دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے، پہلے شوہر کے پاس جانے کے لئے تجدید نکاح کرنا ہوگا۔ دریافت طلب یہ ہے کہ کیا یہ فتویٰ صحیح ہے، اور ہندہ کو طلاق بائن ہو گئی جب کہ دیکھ رہے ہیں کہ استفتاء کے اندر کہیں طلاق کا تذکرہ نہیں ہے، اور نہ کسی طرح شوہر کی نیت کا حال معلوم ہو رہا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو