اب ہم نہیں رکھیں گے سے طلاق
سوال
میں اپنے اہل وعیال کا برابر خیال رکھتا ہوں، لیکن اس کے باوجود اپنی بیوی سے قطع تعلق کر بیٹھا ہوں، اور میں نے اپنی زبان سے یہ بھی کہہ دیا کہ میں اب کبھی نہیں رکھوں گا۔ ایسا ہوا کہ ہمارے گھر میں کچھ پریشانی اچانک آپڑی تھی، اسی اثناء میں ہمارے خسر صاحب آئے، اور کہنے لگے کہ ہم اپنی لڑکی رخصت کرا کر لے جائیں گے، مگر ہمارے والد صاحب کا کہنا تھا کہ ابھی تو ہم پر مصیبت آن پڑی ہے، مگر ہمارے خسر صاحب بضد تھے، تو ہم نے غصہ میں آ کر کہہ دیا کہ اب ہم نہیں رکھیں گے۔
جواب
اگر آدمی دل میں سوچ لے کہ بیوی سے تعلق نہیں رکھوں گا، اور کچھ مدت تک عملی طور پر اس سے الگ رہے اور زبان سے یا تحریر سے طلاق نہ دے تو اس سے طلاق نہیں ہوتی، اور نکاح ختم نہیں ہوتا، اب ہم نہیں رکھیں گے یہ طلاق کا لفظ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔