لفظ نکاح سے الگ کرنے سے طلاق
سوال
ایک شخص اپنی بیوی کو اس کے پس غیبت میں اپنے احباب کے سامنے یہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو اپنے نکاح سے الگ کر دی، اس شخص نے یہ الفاظ دو مرتبہ کہے، تو کیا ان جملوں سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے، اور کیا فریقین باہمی رضامندی سے عدت کے اندر یا بعد عدت تجدید نکاح کر سکتے ہیں، یا نہیں؟ اگر کر لیں تو یہ نکاح شرعاً درست ہے، یا نہیں؟
جواب
اگر طلاق کی نیت سے ایسا کہا ہے تو اس سے طلاق بائن واقع ہوگئی ہے اور اگر دونوں رضامند ہوں تو دوبارہ نکاح شرعاً درست ہے؟ حلالہ کی ضرورت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔