” ہمارے گھر سے چلی جاؤ“ سے طلاق کا حکم
سوال
زید نے اپنی بیوی کو کہہ دیا کہ تم ہمارے گھر سے چلی جاؤ اور وہ منکوحہ زید اپنے خاوند کے کہنے پر ماں باپ کے گھر چلی گئی اس عرصہ کو تقریباً دس گیارہ سال گزر گئے کیا یہ طلاق واقع ہو گئی، یا نہیں، اگر واقع ہوگئی تو کونسی کیونکہ زید نے مذکورہ مدت میں اپنی منکوحہ کو بالکل طلب نہیں کیا، اگر طلاق نہیں پڑی تو کیا وجہ۔
جواب
لفظ مذکورہ کنایات طلاق سے ہے، پس اگر بہ نیت طلاق یہ لفظ کہا ہے تو شرعاً ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، اگر بہ نیت طلاق یہ لفظ نہیں کہا تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔