الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

” جا میں نے جھگڑا صاف کر دیا سے طلاق

سوال

زید اور اس کی بیوی میں تنازع ہوا اور غصہ میں بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ میرا جھگڑا صاف کر دو، شوہر نے کہا کہ جا میں نے جھگڑا صاف کر دیا، تو اپنے باپ کے یہاں چلی جا، یہ دو مرتبہ کہے اور اپنے کام میں لگ گئی، اگلے روز عورت کے ماں باپ اس کو اپنے گھر لے گئے لیکن عورت کہتی رہی کہ مجھ کو کچھ نہیں کہا، لیکن مرد سے معلوم کیا تو اس نے کہا کہ مجھے جو کہنا تھا کہہ دیا، طلاق یا آزادگی کا لفظ نہیں آیا، یہی آیا کہ میں نے جھگڑا صاف کر دیا، دو مرتبہ کہا، اور عورت حمل سے ہے، پورے دن ہو گئے، اب فرمائیے کہ وہ طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟

جواب

شوہر نے جو لفظ کہا ہے وہ صریح طلاق نہیں، اگر طلاق کی نیت سے کہا ہے تو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے دو دفعہ کہا ہو یا تین دفعہ سب کا یہی حکم ہے کہ طلاق حالت حمل میں بھی ہو جاتی ہے، اگر طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو کوئی طلاق نہیں، نکاح بدستور قائم ہے، نیت کے بارے میں شوہر کا قول مع قسم معتبر ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو