الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تو مجھ پر حرام ہے سے طلاق

سوال

زید نے اپنی مدخولہ بیوی کو بحالت غصہ بہ نیت طلاق تین مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ تو مجھ پر حرام ہے، حرام ہے، حرام ہے، اور اپنا مہر لے اور جا، تو طلاق بائن ہوگی یا مغلظہ، اور کیا کسی مفتی صاحب کا یہ فرمانا صحیح ہے، کہ پہلے لفظ سے بائنہ ہو کر محل طلاق نہیں رہی، اس لئے مغلظہ نہ ہوگی، صرف بائن ہو گی بدلیل فتاوی عالمگیری که ” البائن لا يلحق البائن اور بہشتی زیور کے یہ الفاظ کہ طلاق صریح ہو یا بالکنایہ اگر تین ہوں تو تین ہی مغلظہ ہونے پر دال ہے، طبیعت متزلزل ہے تشفی فرمائیے۔ اگر مواقع کا اختلاف ہو تو تحریر فرمائیے۔

جواب

عبارات منقولہ سے چند امور معلوم ہوئے، اول یہ کہ صریح وہ ہے، جس میں نیت کی احتیاج نہ ہو عام اس سے کہ طلاق اس سے رجعی واقع ہو یا بائن، دوم یہ کہ بائن کے بعد بائن واقع نہیں ہوتی، سوم یہ کہ انتِ علی حرام (تو مجھ پر حرام ہے) سے بلانیت مفتی بہ قول پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، (تو گویا یہ لفظ صریح ہوا اور صریح سے صریح لاحق ہو ہی جاتی ہے، اور تین مرتبہ کہنے سے مغلظہ ہو جاتی ہے۔)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو