الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آزاد کر چکا ہوں قطعی کر چکا ہوں، مجھ پر حرام اور شہادت فاسق کا حکم

سوال

گواہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے شوہر سے کہا کہ تم اپنی عورت کو کیوں آباد نہیں کرتے، اور بچوں کا خرچ کیوں نہیں دیتے، اس نے گواہوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں عورت کو آزاد کر چکا ہوں قطعی کر چکا ہوں، مجھ پر حرام ہے۔ اب قابل دریافت یہ ہے کہ کیا یہ الفاظ کنایہ ہیں، پھر تحقیقی فیصلہ سننے کے لئے پیش ہوئے خاوند نے جب فیصلہ سننے کے لئے ان گواہوں کے بیان سنے تو منکر ہو گیا، ان الفاظ کے صادر ہونے کا بھی منکر ہے، اور عورت پر طلاق واقع ہونے کا انکار ان لفظوں سے کرتا ہے، فقط انکار کرتا ہے اور ان الفاظ سے نیت بھی کچھ بیان نہیں…

جواب

یہ گواہوں کا اختلاف مؤثر نہیں کیوں کہ ایک وقت کے کہے ہوئے الفاظ کی شہادت نہیں دے رہے ہیں، لہذا اس اختلاف کی وجہ سے شہادت رد نہیں کی جاسکتی ہے (۱) عورت کو آزاد کر چکا ہوں، ہمارے عرف میں بمنزلہ صریح ہے، اس لفظ سے بلانیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، جس جگہ یہ عرف نہ ہو وہاں یہ حکم نہ ہوگا: سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فاذا قال رہا کردم ای سرحتک یقع به الرجعي…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو