الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حلال کام کو حرام کرنا سے طلاق

سوال

بیوی نے کہا میں نے اس کام (جماع) کی قسم کھا رکھی ہے، مرد نے کہا کہ اگر تم نے قسم کھا رکھی ہے، تو میں نے بھی یہ کام حرام کر لیا ہے، مرد کہتا ہے کہ میں نے غصہ میں ایسا کہہ دیا تھا میری نیت طلاق کی نہ تھی، مطلع فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ یمین منعقد ہو گئی اب اگر جماع کرے گا تو کفارہ یمین لازم ہوگا، عورت نے چونکہ قسم کھا رکھی ہے، تو جماع کی صورت میں تو اس کے ذمہ بھی مستقل کفارہ لازم ہوگا، اگر اس طرح کہتا میں نے عورت کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو طلاق واقع ہو جاتی: تحریم الحلال يمين اه (در مختار ص: ۹۲، ج:۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو