الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جیسے ایک مرتبہ کہا ویسے ہی تین مرتبہ ہزار مرتبہ سے طلاق کا حکم

سوال

زید نے اپنی بیوی ہندہ کو کسی بات پر بگڑتے ہوئے یہ کہا کہ میں نے طلاق دی تم جاؤ، اپنے گھر۔ اسکے جواب میں ہندہ نے یہ کہا کہ جب تک چار پانچ نہ آجائیں گے، میں نہ جاؤں گی، اس پر زید اپنی ایک عزیزہ کے گھر گیا اور اپنی عزیزہ کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ میرے مکان پر چلو اور میری بیوی کو میرے گھر سے بھیج دو، میں اس کو طلاق دے آیا ہوں، اور قصہ ختم کر آیا ہوں، اس، پر زید سے پوچھا کہ تو نے کیا کہا اس پر زید نے کہا کہ میں نے یہ کہا کہ تجھ کو طلاق دیا، جس پر اس کی عزیزہ نے کہا کہ ایک مرتبہ طلاق دینے سے نہیں ہوئی، جا اپنے گھر۔

جواب

صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی تو بالیقین واقع ہوگئی، بلفظ التصریح اور بلفظ تم جاؤ اپنے گھر سے اگر طلاق کی نیت کی ہے، تو اس سے دوسری طلاق بائن واقع ہوگئی، اور اگر نیت نہ کی تو واقع نہیں ہوئی، ہندہ جن الفاظ کو زید کی طرف منسوب کرتی ہے اور زید اس کا منکر ہے، وہ اس امر میں صریح نہیں کہ زید نے تین مرتبہ طلاق دی ہے، یا تین کا اقرار کیا ہے، لہذا اگر ان الفاظ کے کہنے کا شرعی ثبوت ہو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو