الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سات طلاق

سوال

ایک شخص مسمی زید نے اپنی زوجہ مسماۃ ہندہ کو کہا کہ فلاں شخص مسمی بکر کی بیٹی ہندہ بکر زید کا سسر بکر کی بیٹی ہندہ زید کی زوجہ ہے) حرام ہے، پھر دو گواہوں کے روبرو یہ بھی اقرار کیا کہ میں نے اپنی زوجہ ہندہ کو سات طلاق کہا اب نادم اور مستفتی ہے کہ کیا ہندہ واقعی مجھ پر حرام ہوگئی، اب دوبارہ رجوع کی بھی کوئی صورت ہے۔ بینوا وتوجروا۔

جواب

صورت مسئولہ میں زید کی زوجہ ہندہ پر شرعاً طلاق مغلظہ واقع ہوگئی، اب رجوع یا تجدید نکاح کافی نہیں، اگر دوبارہ ہندہ کو رکھنا چاہتا ہے، تو اس کیلئے حلالہ ضروری ہے، یعنی عدت گزار کر ہندہ کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ شریعت کے موافق نکاح کرلے اور وہ شخص ہندہ سے جماع کرنے کے بعد اگر طلاق دیدے یا مر جائے، تو پھر بعد عدت ہندہ کا نکاح زید سے درست ہوگا، بغیر اس کے درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو