سو بار لفظ طلاقن سے طلاق کا حکم
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو سو بار طلاقن کہا، اس عورت کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب
اگر عدت کے اندر کہا ہے تو تین مرتبہ کہنے سے مغلظہ ہوگئی، بشرطیکہ عورت مدخولہ ہو اور کسی پہلے شوہر سے اسے طلاق نہ ملی ہو، اگر پہلے شوہر سے طلاق مل چکی ہے، اور اسی لئے اس شخص نے طلاقن کہا ہے تو شرعاً اس کا قول معتبر ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔