طلاق نامہ پر بغیر پڑھے دستخط
سوال
ایک عورت کو طلاق دینے کیلئے ایک شخص بازار جا کر طلاق کا کاغذ خریدتا ہے پھر اس کو وثیقہ نویس کو دے کر کہتا ہے کہ میری عورت کا طلاق نامہ لکھ دو جس پر وثیقہ نویس طلاق نامہ لکھ دیتا ہے، اور سائل کے دستخط کرا کر بلا سنائے ہوئے طلاق نامہ طلاق دہندہ کے سپرد کر دیتا ہے، اور طلاق دہندہ کا بھی بیان ہے، کہ اس نے طلاق نامہ نہیں پڑھا، کیا یہ طلاق ہو گئی۔
جواب
صورت مسئولہ میں شرعاً ایک طلاق واقع ہوگئی: ولو قال للكاتب اكتب طلاق امرأتي كان اقرارًا بالطلاق وان لم يكتب. شامی ص: ۴۶۹، ج: ۲. اگر جماع کی نوبت آچکی ہے تو عدت کے اندر رجعت کا اختیار حاصل ہے ورنہ بائن ہوگئی دوبارہ نکاح درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔