طلاق نامه کا ترجمہ / کاتب محمد عصمت علی پسر پٹھان علی ساکن خود یار ٹیک / شوہر کا بیان / طلاق نامہ میں طلاج“لکھنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟
سوال
ایک عورت مرض میں مبتلا تھی اس کے شوہر نے دو تین ڈاکٹر سے علاج کرایا اور اس کا خرچہ بھی دیا لیکن بیوی کا باپ اس کی تنگ دستی کی وجہ سے اپنے ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں بہار جانے کا ارادہ کر کے وہاں جا کر مکان کے لئے ۲۰۰ روپیہ پیشگی بھی دیا، بیوی کی ماں اور باپ نے اور بھائی نے یہ بات بھی کہی کہ کچھ روپیہ پیسہ بھی لگ جائے تو خاوند سے طلاق لے لینا چاہئے، ورنہ ہمارا دل پریشان رہے گا، اور آمد ورفت کے خرچہ میں بھی پریشانی رہے گی، ایک روز اتفاقاً خسر کے مکان پر بیوی کو دیکھنے کے لئے گیا تو اس کی بیوی کے بھائی نے بری بھلی بات…
جواب
یہ لفظ کہ میں نے طلاج دیا، نہ صریح ہے، نہ کنایہ، لہذا اس لفظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی،مگر اصل عبارت بنگلہ زبان کی ہے، یہاں متعدد لوگوں سے پڑھوایا بعض نے ایسا ہی پڑھا ہے، یعنی طلاج اور بعض نے صاف طلاق پڑھا ہے، نیز چند جملے آگے بھی نہیں پڑھے گئے، جن کا ترجمہ نہیں کیا گیا، یہاں پڑھنے والے نے پڑھا ہے، کہ: ”تم عورت ہو تمہیں شوہر بہت مل جائیں گے مشکل تو اپنی ہے، کہ میں مر رہا ہوں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔