الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سادہ کاغذ پر لکھنے سے طلاق

سوال

ایک شخص اپنی بیوی مسماۃ خدیجہ کو بوجہ تنازع زیور رو برو پنچایت طلاق تین مرتبہ دے کر اپنی زوجیت سے علیحدہ کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اب میرا تعلق تم سے کوئی نہیں، وہ یہ تحریر اسٹامپ کاغذ پر بموجب قانون گورنمنٹ طلاق نامہ تحریر نہیں کرتا بلکہ بجائے اس کے ایک سادہ کاغذ پر روبرو گواہاں مسلمان سترہ اشخاص تحریر کرا کر اپنا انگوٹھا لگاتا ہے، کیا شرع شریف میں سادہ کاغذ پر طلاق تحریر کرنے سے طلاق واقع ہو سکتی ہے؟ بینوا وتوجروا۔

جواب

شرعاً زبان سے کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ تحریر کرے یا نہ تحریر پر موقوف نہیں رہتی ہے پھر سادہ کاغذ پر تحریر کرے یا اسٹامپ پر بہر صورت طلاق واقع ہو جاتی ہے، پس اگر اس شخص نے زبان سے تین مرتبہ طلاق دی ہے، یا سادہ کاغذ پر تین مرتبہ طلاق تحریر کر دی ہے تو شرعاً تین طلاق واقع ہو گئیں اگرچہ اسٹامپ پر لکھ کر نہ دیا ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو