کاتب سے طلاق لکھوانا
سوال
زید نے کاتب کو کہا کہ میرا طلاق نامہ لکھو زید کے کاتب نے حسب حکم زید، زید کا طلاق نامہ لکھا اور پڑھ کر زید کو سنا دیا بعدہ زید نے طلاق نامہ پر اپنا انگوٹھا چسپاں کر دیا اور زبان سے لفظ طلاق استعمال نہیں کیا اس طلاق نامہ سے اس کی زوجہ پر طلاق ہو گئی یا نہیں؟
جواب
اگر زید بھی اس طلاق نامہ کے لکھوانے کا اقرار کرتا ہے، تو شرعاً طلاق واقع ہو گئی اگرچہ زبان سے طلاق نہیں دی: ولو قال للكاتب اكتب طلاق امرأتي كان اقرارًا بالطلاق وان لم يكتب ولو استكتب من اخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فاخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به اليها فاتاها وقع ان اقر الزوج انه كتابه شامی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔