الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

”طلاق نامہ لکھ دو“ سے طلاق

سوال

اپنی بیوی کو کسی بنا پر مارا وہ اپنی والدہ کے ہمراہ میکے چلی گئی، میں لینے کے لئے گیا اس نے کچھ عذر کیا، میں محکمہ قضاء میں پہنچا اور واقعہ سنایا اور کہا کہ طلاق دینا چاہتا ہوں، قاضی صاحب نے کہا کہ گیارہ روپیہ فیس داخل کر دو اور دو گواہ لے کر مجھے طلاق نامہ دیدیا، اور کہا کہ طلاق ہو گئی جاؤ، اور اس کی ایک کاپی تمہاری بیوی کو دیدی جائیگی، چند دن بعد میری بیوی گھر آئی، میں نے کہا کہ تجھ کو طلاق دیدیا ہوں کیا تجھ کو اس کی کاپی نہیں پہنچی، اسنے کہا مجھے معلوم نہیں اور طلاق نہیں ہوئی پھر میں نے لوگوں سے معلوم کیا تو…

جواب

اگر آپ نے قاضی صاحب سے کہا ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں، آپ طلاق نامہ لکھ کر مکمل کر دیجئے، تو اتنا کہتے ہی ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، خواہ بیوی کے پاس طلاق نامہ پہنچا اور اس نے وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ایسی طلاق کا حکم یہ ہے کہ عدت (تین حیض)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو