لاعلمی میں طلاق نامہ پر انگوٹھا
سوال
زید نے ہندہ سے اس شرط پر شادی کی کہ اپنی بہن کی شادی ہندہ کے عزیزوں میں کر دوں گا، نکاح کے بعد ہندہ کے عزیزوں کی درخواست شادی پر زید نے جواب نہیں دیا اور ہندہ کے عزیزوں نے ہندہ کو روک لیا (ہندہ اور زید میں کبھی یکجائی نہیں ہوئی) اور طلاق کے ملتجی ہوئے آخر ایک سال کے بعد زید نے طلاق کی تحریر دیدی، زید لاعلم ہے، اس کو نہیں معلوم کہ کس طلاق کی تحریر ہے، بس اس کا انگوٹھا لگوالیا گیا، پھر زید ہندہ کی ملاقات ہوئی طلاق پر ہندہ نے افسوس کیا اور زید کے ہمراہ ہوئی، اب زید کے لئے ہندہ کو اپنی شرعی بیوی سمجھنا اور تعلقات…
جواب
اگر مضمون کی اطلاع پر انگوٹھہ لگایا تو وہ معتبر ہے یعنی طلاق نامہ لکھ کر زید کو پورا پورا صحیح صحیح سنادیا گیا، اس کے بعد زید نے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگایا ہے تو ہندہ پر شرعا طلاق واقع ہو گئی: رجل استكتب من رجل آخر الى امرأته كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فاخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به الى امرأته فاتاها الكتاب واقر الزوج انه كتابه فان الطلاق يقع عليها.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔