تفویض نکاح سے قبل تحریر لکھوانا
سوال
(۱) کسی شخص نے اس شرط پر اپنی لڑکی کا نکاح کرا دیا کہ اگر میری لڑکی کو تکلیف ہوئی یا نان ونفقہ نہ ہو سکا، تو طلاق کا اختیار مجھ کو ہے، تو اگر بغیر اس شرط کے پائے گئے، شوہر اپنی بیوی کے بھائی سے لڑائی کرتے ہوئے یہ نیت طلاق یہ کہہ دے کہ میرا تیری بہن سے کوئی تعلق نہیں تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ (۲) نکاح سے قبل کوئی تحریر لکھوا لینا کہ مجھ کو طلاق کا اختیار ہے صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) شوہر جب اپنی بیوی کے حق میں یہ جملہ بہ نیت طلاق کہہ دے تو اس سے ایک بائن طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ (۲) اگر نکاح سے قبل یہ تحریر لکھوائی کہ تمہاری بیوی کو طلاق دینے کا مجھ کو اختیار ہے تو یہ تحریر غیر مؤثر ہے، اس تحریر کو نان ونفقہ کی عدم ادائیگی پر معلق کیا ہو یا نہ معلق کیا ہو سب بیکار ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔