تنقيحات / (۱) لڑکی بالغہ ہے یا نابالغہ۔ / (۲) مدخولہ ہے یا غیر مدخولہ / لفظ کنایہ سے تحریری طلاق
سوال
ایک بوڑھا پشاوری حافظ مبتلائے مرض گرمی مقیم ڈھا کہ نے سلچر کی ایک کمسن نوجوان عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا، اور اس نکاح کی حالت میں چند سال کا عرصہ بھی گذرا اس عرصہ میں حافظ جی اپنے مرض دائمی کے ازالہ کیلئے علاج کراتے رہے، مگر مرض کا ازالہ نہیں ہوا، بالآخر مرض سے مجبور اور تنگ آکر اور صحت یابی سے مایوس اور لاچار ہو کر حافظ صاحب حج بیت اللہ کیلئے روانہ ہو گئے، بمبئی پہنچ کر جہاز میں سوار ہوئے تو جوں جوں ان کی صحت خراب ہوتی گئی ڈاکٹر نے معائنہ کر کے ان کو جہاز سے کراچی بندرگاہ پر اتار دیا، وہاں ایک عرصہ رہ کر کلکتہ…
جواب
لفظ ”بندہ تم کو آزاد کرتا ہے ہمارے عرف میں بمنزلہ صریح ہے اس لئے اس سے ایک طلاق رجعی بلانیت واقع ہو جاتی ہے جہاں کا عرف اس کے خلاف ہو وہاں یہ حکم نہ ہوگا، بلکہ نیت پر طلاق موقوف رہے گی، بغیر نیت واقع نہ ہوگی، اور نیت سے بائن واقع ہوگی اور حق رجعت باقی نہ رہے گا)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔