الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحریری طلاق

سوال

زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو بہ نیت طلاق لکھ کر یہ تحریر دی کہ اب میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں، ایک مولوی صاحب نے کہہ دیا کہ اس سے طلاق بائن پڑگئی، اور دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ان ہی مولوی صاحب نے ہندہ کو رضامندی سے زید کے باپ اور ماں اور بہن کی موجودگی میں زید کے ساتھ ہندہ کا نکاح کر دیا، اس پر ہندہ کے ماموں نے کہا کہ یہ نکاح نہیں ہوا، ہندہ بالغہ ہے پہلے ہی سے، تو ہندہ کا نکاح ثانی درست ہوا یا نہیں؟

جواب

اگر بیوی کے سامنے تحریر لکھ کر طلاق دی جائے اور زبان سے نہ کہا جائے، تو طلاق ہی واقع نہیں ہوتی ہے۔ بیوی کی عدم موجودگی میں لکھ کر بھیجنے سے طلاق ہو جاتی ہے۔ پہلا نکاح جسکے ساتھ ہوا تھا، اس کے ساتھ دوسرا نکاح ہوا اور لڑکی بالغہ ہے، تو دوبارہ نکاح کیلئے باپ کی اجازت لازم نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو