الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ز بر دستی تحریر سے طلاق

سوال

زید اور اس کی بیوی میں مار پیٹ کا مقدمہ چلا زید پر عدالت سے بیس روپیہ جرمانہ ہو گیا زید نے عدالت بالا میں اپیل کی عدالت بالا نے زید سے فہمائش کی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، زید نے عذر کیا، زید کے عذر پر عدالت نے دھمکی دی کہ اگر دو منٹ کے اندر فیصلہ لکھ کر داخل نہ کیا تو تم کو جیل خانہ بھیج دیا جاوے گا، زید نے اس دھمکی سے مرعوب ہو کر فیصلہ لکھوا کر دے دیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس نے مجھے مہر شرعی معاف کر دیا تو کیا ایسی حالت میں طلاق شرعی ہوگی۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر زید نے زبان سے طلاق نہیں دی بلکہ محض طلاق کی تحریر دی ہے، تو شرعاً اس کی بیوی پر طلاق نہیں واقع ہوئی: رجل اکرہ بالضرب والحبس على ان يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لان الكتابة اقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو