مکرہ کی طلاق بالکتابت کا حکم
سوال
زید کو چند آدمی کسی ناراضگی کی وجہ سے دھوکہ دے کر قصبہ سے یا مدرسہ سے باہر لے گئے اور اس کو مارا اور کہا کہ تو آئندہ اگر اس مدرسہ میں یا قصبہ میں آئے گا تو تجھ پر طلاق اضافی واقع ہوگی اور زید کو کہا کہ تو کہہ دے کہ میں یہاں آئندہ نہ آؤں گا، اگر آؤں تو جب شادی کروں اور تو طلاق واقع ہو جاوے، مگر زید خاموش رہا اور زید کو ان آدمیوں نے اسٹیشن پر سوار کر دیا اب زید نے دوسرے شہر سے ہو کر مدرسہ میں درخواست دی اور مقدمہ قوی کرنے کے لئے یہ بھی لکھ دیا کہ مجھ سے ان لوگوں نے زبر دستی طلاق اضافی بھی لی تھی، اور مجھے مارا بھی…
جواب
اگر جبر واکراہ کر کے زید سے طلاق تحریر کرا دی ہے اور زید نے اس طلاق اور تعلیق کا تلفظ نہیں کیا تو اس تحریر سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوگی: رجل اکره بالضرب والحبس ان يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لان الكتابة اقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا فتاوى قاضيخان ص: ۴۷۲، ج: ۱، خواہ اس تحریر میں وہ الفاظ لکھے ہوں جو کہ سوال میں مذکور ہیں خواہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔