تحریری طلاق
سوال
زید بعد نماز تراویح مکان پر آکر لیٹ گیا بعد ازاں ہندہ لڑکے کو لے کر آئی اور زید کے پلنگ پر لٹا دیا لڑکا رونے لگا زید نیند سے بیدار ہو گیا زید نے ہندہ سے کہا کہ لڑکے کو دیکھو بہت پریشان کئے ہوئے ہے، زید نے لڑکے کو خاموش کرنے کی کوشش کی لیکن لڑکا خاموش نہ ہوا اس کے بعد زید نے ہندہ کو بلایا اور لڑکے کو لے جانے کے لئے کہا اور کہا کہ خاموش نہیں ہوتا، اس پر ہندہ نے کہا کہ آپ کو دیکھنا ہوگا، زید نے متعدد بار لے جانے کو کہا جس پر ہندہ نے یہی کہا کہ آپ ہی کو دیکھنا ہوگا، اس پر زید نے کہا لڑکے کو لے جاؤ اس نے انکار کیا زید…
جواب
زید نے جو الفاظ لکھ دیئے ہیں، اگر وہ بیوی کے سامنے نہیں لکھے، یا لکھ کر اس کو سنا دیئے تو ان سے طلاق رجعی واقع ہوئی ہے کہ اس کا حکم یہ ہے کہ عدت میں رجعت درست ہے اور بعد عدت برضاء طرفین دوبارہ نکاح درست ہے۔ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، اگر طلاق اس شرط پر دی کہ ہندہ مہر معاف کر دے اور مہر کی معافی کو طلاق کا عوض قرار دیا ہے، تو طلاق بائن ہونے کی اس صورت میں شوہر کو رجعت کا اختیار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔