الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نقل اصل طلاق نامه / حالت سحر وجنون میں تحریری طلاق

سوال

ایک شخص نے بیرونِ ملک میں رہتے ہوئے اپنی بیوی کو متعدد خطوط لکھے، جس میں زیادہ تر مضمون فحش گالی گلوج پر مشتمل ہیں، ساتھ ہی طلاق طلاق طلاق کے الفاظ بھی لکھے اور یہ بھی تحریر کیا کہ میرا تیرا کوئی تعلق نہیں، میں نے تجھے چھوڑ دیا، جب گاؤں کی کمیٹی نے طالق کو بلا کر معلوم کیا تو اس نے اقرار کیا کہ میں نے لکھا ہے، مگر میرے ہوش وحواس قائم نہیں تھے، کمیٹی کے بعض لوگوں نے کہا اس پر سحر کیا گیا تھا، اسلئے اس حال میں لکھے ہوئے الفاظ سے طلاق واقع نہ ہوگی، بعضوں نے اس پر جنون کا خیال ظاہر کیا تو کیا مذکورہ بالا حالات میں…

جواب

اگر جنون یا سحر وغیرہ کی وجہ سے ہوش وحواس قائم نہ رہیں اور یہ معلوم نہ ہو کہ زبان سے کیا الفاظ کہہ رہا ہے اور ان کا کیا نتیجہ ہوگا تو ایسی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، اگر یہ بات نہ ہو بلکہ الفاظ کے مطلب کو سمجھتا ہو کہ اس طرح کہے تو طلاق ہو جاتی ہے، طلاق دیتے وقت اس کے دوسرے احوال ومعاملات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے، کہ حواس صحیح تھے یا نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو