لفظ آزاد سے طلاق تحریری
سوال
ایک خط لکھا دل میں تو یہ خیال کہ میں طلاق دے چکا ہوں، اور عبارت میں تحریر کیا کہ میں ہر چند سمجھایا مگر اس کو ایک کا بھی اثر نہ ہوا اب میں خوشی سے اس کو تین دفعہ آزاد کر چکا ہوں جو اس کی مرضی چاہے کرے میرے ذمہ کوئی اس کا بوجھ بار نہ ہوگا، اور نہ میرے ذمہ کوئی اس کا فرض باقی رہا۔ اب یہ طلاق ہو گئی یا نہیں خلاصہ طور سے اس مسئلہ کے جواب سے مطلع فرمائیں۔ فقط
جواب
اگر وہ شخص اس تحریر کا اقرار کرتا ہے تو شرعاً تین طلاق واقع ہو کر مغلظہ ہوگئی ہے اب بغیر حلالہ کے رکھنا درست نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔