الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق نامہ پر جبرا انگوٹھا لگانے سے طلاق کا حکم

سوال

محمد حنیف کی شادی محمد صدیق کی لڑکی نور افشاں بیگم کے ساتھ چار سال ہوئے ہوئی لڑکی کے والد کلکتہ میں کمپنی میں ملازم ہیں داماد کو کمپنی میں جگہ دلوادی، بیوی میکے میں والدین کے پاس رہی، محمد حنیف خرچہ وغیرہ دیتا رہا، سال میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ شوہر کے پاس چلی جاتی غرضیکہ پورا خاندان ہنسی خوشی رہتا رہا، ایک دن سسر اور داماد میں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا، مار پیٹ بھی ہوئی اس کے بعد صلح ہوگئی لیکن کشیدگی باقی رہی ایک دن محمد حنیف نے خود سر کے بارے میں لکھ دیا، سسر نے خود طلاق لینا چاہا۔

جواب

اگر دو عادل مقبول الشہادۃ آدمی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے محمد حنیف نے اپنی بیوی کو زبان سے طلاق مغلظہ دی ہے، یا طلاق نامہ میں تین طلاق لکھوائی یا طلاق نامہ اس کو پڑھ کر سنایا گیا اور اس نے سن کر سمجھ کر اس پر انگوٹھا لگایا ہے، اور اس انگوٹھا لگانے میں اس پر جبر نہیں کیا گیا ہے تو اس کی بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہو گئی ہے اور بغیر حلالہ کے اس سے دوبارہ نکاح بھی درست نہیں اگر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو