الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحریری طلاق کی ایک صورت

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین متین درباره طلاق جو کہ بطریق مندرجہ ذیل بذریعہ تحریر مورخہ یکم اگست ۱۹۳۸ء کو دی گئی نقل تحریر۔ بنام فلاں دختر فلاں تمہارے برخلاف کوئی الزام نہیں ہے، چونکہ میں اس نتیجہ پر پہنچ گیا ہوں کہ میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکتا، اس لئے میں تمہیں بذریعہ اس تحریر کے طلاق دیتا ہوں تم اور تمہارے والد راضی ہو گئے ہو کہ حق مہر میرے حق میں چھوڑ دیا گیا ہے، مورخہ یکم مندرجہ بالا خط کا جواب ۵ اگست کو لڑکی کے باپ کی طرف سے بذریعہ تحریر ملا، جو ذیل میں درج ہے۔

جواب

(۱) لڑکی بالغہ ہے۔ (۲) مدخولہ ہے۔ (۳) معلوم نہیں ہے لیکن آپ برائے مہربانی (الف) باپ کو مختار اور وکیل کر دینے اور (ب) باپ کو مختار اور وکیل نہ کر دینے دونوں حالت میں جواب مرحمت فرمادیں۔ (۴) طے شدہ امر ضبط تحریر میں نہیں لایا گیا ممکن ہے کہ لڑکی کا باپ اس قسم کے گواہ پیدا کرے، کہ طلاق زبانی بھی دی گئی تھی، اور مہر کا کوئی ذکر نہیں آیا تھا، اور نہ لڑکی نے مہر معاف کیا تھا، یہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو