تحریری طلاق
سوال
شفیق احمد عرف اللہ نے یہ مضمون اپنی بیوی کے والد کے نام ارسال کیا، اس خط کو للہ نے لکھا امتیاز خاں کو: ”میں فرض کرتا ہوں کہ میں آپ کے یہاں گیا تھا، بلانے کیلئے اس لڑکی کو جس میں جواب غلط ملا کہ میں نہیں جانتی لڑکی کا باپ اور بھائی جانے میں بھی دوبارہ گیا، پھر بھی کچھ جواب نہیں ملا، اس لئے میرا بھی جواب ہے کہ اس کو نہیں رکھیں گے، امتیاز کی لڑکی شکیلہ کو طلاق دیا اس لئے میری طرف سے اس کو جواب ہوا، میں دیا طلاق (۲) میں دیا طلاق (۳)
جواب
جو تحریر آپ نے اس سوال میں نقل کی ہے اور اس کا اقرار شفیق احمد نے ایک مجلس کے سامنے کیا ہے، حالانکہ اس وقت شفیق احمد کو اقرار کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اس سے صرف دریافت کیا گیا تھا، اس تحریر کی رو سے طلاق مغلظہ واقع ہو گئی، اب اس کے انکار کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے دو پرچے چونکہ ہندی میں ہیں ہم ان کو نہیں سمجھتے، فتوی کے ساتھ وہ بھی واپس ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔