غصہ میں تین طلاق
سوال
زید نے اپنی منکوحہ مدخولہ بہا زینب کو ایک طلاق دیا اس کے بعد زینب کا باپ زید کے پاس آکر پوچھنے لگا کہ کیا تم نے طلاق دے دیا تو زید نے غصہ میں کہا کہ ہاں میں نے تین مرتبہ طلاق دید یا لیکن زید کہتا ہے کہ میں نے صرف پہلا ایک ہی طلاق دیا ہے، اور بعد میں جو میں نے یہ کہا کہ ہاں میں نے تین طلاق دے دیا تو یہ میں نے صرف غصہ میں کہا ہے، دل میں نیت طلاق نہیں تھی، عورت مذکورہ کے بارے میں اب شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب
ایسی صورت میں قضاء تین طلاق واقع ہو گئیں، پس اگر زینب نے خود اس بات کو سنا ہے یا زینب کے باپ نے زینب سے بیان کیا ہے، کہ تمہارے شوہر نے مجھ سے تین مرتبہ طلاق کا اقرار کیا ہے تو زینب کے لئے جائز نہیں کہ کسی طرح شوہر کو حلالہ سے قبل اپنے اوپر قابو دے بلکہ اس سے بچنے کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔