الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق غضبان

سوال

زید نے اپنی بیوی کو خانگی فساد کی حالت میں غصہ کیا اور تین طلاقیں دیں، اب طلاق ثلاثہ غصہ کی حالت میں زید مذکور کی بیوی پر پڑ گئی، یا نہیں؟ دلائل کے ساتھ جواب تحریر فرمائیں۔ اختری بہشتی زیور ص: ۱۸، ج ۴، میں مرقوم ہے کہ کسی شراب وغیرہ کے نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی جب ہوش آیا تو پشیمان ہوا تب بھی طلاق پڑ گئی اسی طرح غصے کی حالت میں بھی طلاق پڑ جاتی ہے، اهـ وفي رد المحتار: ويقع طلاق إن غضب ص: ۴۶۳، ج:۲، مصری اور فتاوی دارالعلوم دیو بند ج ۴، ص: ۳۳۳، میں سوال وجواب نمبر: ۴۷۹، اور جو شخص طلاق دیتا ہے وہ غصہ میں دیتا…

جواب

غصہ کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، حنفیہ کا بھی یہی مسلک ہے، بعض متاخرین حنابلہ اسطرف گئے ہیں، کہ حالت غضب میں طلاق واقع نہیں ہوتی، اور ان میں سے متقدمین کا قول یہ نہیں، بلکہ وہ حنفیہ کے موافق ہیں: وقال ابو داؤد الطلاق اظنه في الغضب اهـ اس سے ان بعض متاخرین حنابلہ نے استدلال کیا ہے کہ حدیث شریف: لاطلاق ولاعتاق في اغلاق اهـ اغلاق کی تفسیر ابوداؤد نے غضب سے کی ہے لہذا غصہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو