طلاق غضبان ومعتوه / مع / فتوی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ
سوال
استفتاء (۶۰۷۳) نوٹ: مستفتی نے ایک عدالتی اسٹامپ بابت طلاق اور سابق فتوے کی نقل مطابق اصل بھیج کر مزید سوال کا جواب طلب کیا ہے، جن کو بعینہ نقل کیا جاتا ہے۔ بروئے تحقیقات وبیان گواہاں معلوم ہوا کہ مسمی احد ڈار ولد رسول ڈار کو اپنی منکوحہ کے ساتھ کچھ خلاف طبیعت ناراضگی ہونے کی وجہ سے عقل وہوش وحواس میں خلل آکر کہنے لگا کہ بقول طالق، چلو میں اپنی عورت کو علیحدہ کردوں اور چھوڑ دوں، تو اس بارے میں میر ڈار وغیرہ نے کہا کہ ہم تمہاری طلاق یا عورت کو چھوڑنا اس وقت تک منظور نہ کریں گے، جب تک دو ہزار روپیہ اپنی عورت کی طرف…
جواب
وبالله التوفيق - صبی اور مجنون اور معتوہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی: کما في الدر المختار: لا يقع الطلاق إلى قوله المجنون أي وصبى أى والمعتوه وقال في الهداية: ولا يقع طلاق صبى والمجنون والنائم وأخرج الترمذى مرفوعاً كل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه المغلوب على عقله الخ وروى عن ابن ابي شيبة في مصنفه عن ابن عباس لا يجوز طلاق الصبي انتهى كذا في تخريج الزيلعي على الهدایه.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔