الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دعاء ثانی

سوال

دعاء ثانی شرعاً جائز ہے یا کہ نا جائز ہے، حضور ﷺ کے زمانہ میں کسی فعل کا عدم وقوع جس میں شرعاً کوئی قباحت نہ ہو ایسا فعل کرنا جائز ہے یا کہ نا جائز ہے؟ عدم وقوع سے شرعاً عدم جواز لازم آیا یا کہ نہیں اور عدم وقوع اور عدم صدور زمانہ نبوی حجت شرعیہ ہے یا کہ نہیں؟ اور حجت ادلہ شرعیہ کتنے اور کون کون سے ہیں؟ کونسی چیز ائمہ اربعہ اور اجلہ علماء کا عمل ہے؟

جواب

دعا ہر وقت جائز ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام سے دعاء ثانیہ ثابت نہیں ہے، اس کو سنت کہنا غلط ہے، جو فی نفسہ مباح ہو اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا جس سے اس چیز کا واجب یا مسنون ہونا معلوم ہوتا ہے درست نہیں، جس چیز کا داعیہ شرعیہ زمانہ خیر القرون میں موجود ہو اور پھر بھی وہ چیز موجود نہ ہو تو یہ اسکی عدم مشروعیت کی دلیل ہے، ادلہ موجود اور پھربھی وہی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو