الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پنجگانہ نماز میں دو دفعہ دعا کا التزام

سوال

عرض خدمت یہ ہے کہ حسب ذیل مسائل کا حل از کتب احادیث بر طریقه حنفیه مع دلائل و براہین صراحة تحریر فرما کر عنداللہ ماجور فرما کر عند الناس مشکور فرمائیں، کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام بلا ناغہ نماز پنجگانہ میں دو وقت دعا مانگتا ہے، اوّل بعد ادائے فریضہ، دوم بعد اتمام سنت ہر نماز میں بعد ادائے سنت جو دعا مانگی جاتی ہے اس میں فاتحہ کا پڑھنا لازمی سمجھا جاتا ہے، بعض مقتدیوں کو اس سے اختلاف ہے، لہذا یہ تحریر فرمائیے گا کہ دعا اول وثانی کا حق امام کو ہے یا نہیں، اگر ہے تو اس کی دلیل کیا…

جواب

نفس دعا مطلقاً مامور بہ ہے اور بعد صلوۃ خصوصیت سے مقرون بالاجابۃ ہوتی ہے، احادیث میں کثرت سے اس کی فضیلت وارد ہے لیکن دو مرتبہ جیسا کہ سائل نے بیان کیا دعا مانگنا قرون مشہود لها بالخیر سے ثابت نہیں کتب معتبرہ حدیث وفقہ میں اس کا کہیں ذکر نہیں، پس معلوم ہوا کہ یہ طریق محدث ہے اس پر التزام کرنا اور بھی شنیع ہے، بعض نواح میں فرض جیسا معاملہ اس دعا کیساتھ کیا جاتا ہے، بلکہ فرض سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو