نماز کے بعد دعاء ثانی
سوال
بمبئی میں ہر نماز کے بعد الفاتحہ کہا جاتا ہے، اور ایک آیت کا وقت بھی نہیں لگتا، نہ معلوم کیا پڑھتے ہیں، لہذا اس کا صحیح طریقہ اور بمبئی کے فاتحہ کا درست طریقہ حوالہ کے ساتھ تحریر فرمائیں؟
جواب
نماز کے بعد دعا ثابت ہے اور قبول ہوتی ہے جس کا جو دل چاہے دعا کرے، اس میں امام کو بھی حق ہے، اور مقتدیوں کو بھی حق ہے، لیکن سنتوں کے بعد سب کا اجتماعی طور پر دعا کرنا اور اس میں الفاتحہ پڑھنا اور اس کو اس طرح لازم سمجھنا کہ جو شخص اس میں شریک نہ ہو اس کو ملامت کی جائے، یہ غلط ہے، نہ قرآن پاک سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سے ثابت ہے، جو لوگ اس طریقہ کو لازم سمجھتے ہیں ان سے حوالہ طلب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔