فجر کے بعد اور عصر کے بعد کتنی دیر ذکر میں مشغول رہنے سے مخصوص ثواب ملتا ہے
سوال
- حدیث شریف میں نماز صبح و نماز عصر کے بعد ذرا دیر ذکر کرنے کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے، تو اس تھوڑی دیر سے نماز فجر و عصر کے بعد پورا وقت مراد ہے، یا اس سے کم اگر کم مراد ہے تو کم از کم کتنی دیر ذکر کرنے سے فضیلت مل سکتی ہے؟
جواب
فجر کے بعد اشراق تک اور عصر کے بعد غروب تک ذکر میں مشغول رہنے کی بڑی فضیلت ہے، اگر یہ سارا وقت نہ مل سکے تو کم سے کم تسبیحات فاطمہ کی مقدار پر ہی قناعت کرے، یعنی سُبْحَانَ الله ۳۳ بار الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۳۳ اللهُ أَكْبَر ۳۴ لا إِلهُ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔