تسبیح فاطمی نہ پڑھنا
سوال
ایک شخص فجر اور عصر کی نماز کے بعد والی تسبیح مسنونہ صحیح طور پر نہیں پڑھتا بلکہ جلد منہ بند کر کے انگلیوں کو حرکت دے کر امام اور مقتدیوں کی تسبیح ختم ہونے سے پہلے دعا مانگ کر چلا جاتا ہے، انکا یہ فعل مقتدیوں کو بہت برا معلوم ہوتا ہے، یہ عادت غلط ہے یا نہیں؟
جواب
یہ تسبیحات سنن مؤکدہ نہیں کہ ان کے تارک پر عتاب کیا جائے، بلکہ یہ مستحب ہے جو شخص ان کو مستحب طریقہ پر پڑھے گا اجر و خیر حاصل کرے گا نہیں پڑھے گا تو محروم رہے گا، تاہم گنہ گار نہیں ہوگا، نمازی اس سے نفرت نہ کریں برا نہ کہیں محبت و ہمدردی سے سمجھائیں ترغیب دیں
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔