الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فرض نماز میں اگر غلطی فاحش کی تو اصلاح سے بھی نماز نہ ہوگی

سوال

ایک امام صاحب نے فجر کی نماز میں درمیان قراءت پاره ۲۴ او تقول حین تری العذاب لوان لى كرة فاكون من المحسنين. اس آیت میں فاكون من الخاسرين پڑھا۔ اور پھر خود ہی فاكون من المحسنين. پڑھ لیا۔ اسی رکعت میں آگے چل کر بل الله فاعبدو کن من الشاکرین اس آیت میں وکن من الخاسرین پڑھ دیا۔ مقتدی نے لقمہ دیا اور اس کو امام نے وكن من الشاکرین پڑھ کر اصلاح کرلی۔ آیا ان اغلاط کی تصحیح کرنے پر نماز ہوگئی یا نہیں؟ نماز کے اندر غلطی فاحش سے مراد کونسی غلطی ہے جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔

جواب

غلطی فاحش وہ ہے جس سے معنی بگڑ جائیں مقصود قرآن کے خلاف ہو جائیں جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے، ایسی غلطی سے فرض نماز فاسد ہو جاتی ہے اور اصلاح کر لینے پر بھی درست نہیں ہوگی۔ کذا فی منظومة ابن وهبان وان لحن القاري واصلح بعده اذا غير المعنى الفساد مقرر ایسی نماز کو دوبارہ پڑھا جائے۔ تراویح میں ختم قرآن کریم مقصود ہوتا ہے اس میں ایسی غلطی کا ہو جانا نادر نہیں۔ اسلئے وہاں توسع ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو