قراءت میں غلطی کے بعد اس کو صحیح پڑھنے سے نماز کا حکم
سوال
نماز میں کس طرح کی غلطی سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ اگر معنی بدل گئے پھر صحیح کر کے اعادہ کر لیا تو اس طرح سے نماز صحیح ہوگئی۔ کبھی وسط جملہ میں سانس ٹوٹ جاتا ہے اس سے کچھ حرج ہے یا نہیں؟ اور تشہد وغیرہ اور قراءت میں کچھ فرق ہے یا ایک حکم ہے؟
جواب
جو غلطی منافی صلوٰۃ ہے اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ اگر معنی بگڑنے سے نماز فاسد ہوگئی تھی تو اس لفظ کا صیح طور پر اعادہ کرنے سے نماز صحیح نہیں ہوئی بلکہ نماز کا اعادہ ضروری ہوگا۔ البتہ عالمگیری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز صحیح ہو جائے گی ہمارے اکابر اس کو نفل وتر تراویح وغیرہ پر حمل کرتے ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔