ضاد کا مخرج
سوال
نماز میں لفظ ض کو کس طرح ادا کیا جائے۔ بعض لوگ اس کے اصل مخرج سے واقف نہ ہوتے ہوئے کبھی ظ پڑھ دیتے ہیں کبھی ز کبھی ذ کبھی د، اصل مخرج اس لفظ کا کیا ہے۔ نماز اس طرح پڑھنے سے ادا ہو جائے گی؟
جواب
ض مستقلاً حرف ہے اس کا مخرج حافۂ لسان اور اضراس علیا ہے اس کی صفات مستقل ہیں۔ مجہورہ مستطیلہ رخوہ اس کو ادا کرنا تمام حروف سے زیادہ مشکل ہے۔ اس کے۔ لئے بڑی مشق کی ضرورت ہے۔ کوشش یہ کی جائے کہ اپنے اصل مخرج سے اپنی پوری صفات کے ساتھ ادا ہو اور ممیز ہو جائے قصداً اس کو دال یازا یاظ نہ پڑھے۔ کوشش کے باوجود جس طرح بھی ادا ہو گا نماز درست ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔