الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غلطی فاحش سے مراد؟

سوال

امام نے سورہ انفطار پڑھی الَّذِی خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَک کے بعد کلا بلا، پھر معا امام کو احساس ہوا اور بغیر اس لفظ کی تصحیح کے بقدر تین سکنڈ کے بعد بل تكذبون بالدین پڑھ کر رکوع کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ آیت تلاوت میں داخل ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو نماز ہوئی یا نہیں؟ مع حوالہ جواب سے مستفیض فرمائیں۔

جواب

فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَبَكَ كَلَّا بَلْ پڑھ کر یعنی غلطی سے لفظ بلا زائد پڑھ کر غلطی کا احساس ہوا اور بغیر اس لفظ کی تصحیح کئے تقریباً تین سکنڈ کے بعد بل تكذبون بالدین پڑھ کر نماز پوری کردی، تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوئی۔ فساد کا مدار معنی بگڑنے پر ہے۔ یہاں یہ بات نہیں ہوئی لفظ بلا لفظ کلا کی تاکید بن جائے گا اور معنی درست ہو جائیں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو