اگر امام کی غلطی پر دو گواہ ہوں
سوال
ایک روز نماز فجر میں متشابہ لگا۔ ایک جگہ اَهَانَنُ ہے اور دوسری جگہ اَكْرَمَنُ ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ٹھیک پڑھا۔ مگر ہمارے دو مقتدی رمضانی اور حافظ عبدالحمید صاحب فرماتے ہیں کہ دونوں جگہ اھانن پڑھا ہے۔ تو نماز ہو گئی یا نہیں؟
جواب
اگر امام کو پختہ یقین نہیں بلکہ شک ہے اور دو معتبر مقتدی کہتے ہیں کہ غلط پڑھا ہے، تو ان دونوں کا قول معتبر مانتے ہوئے نماز کو لوٹانا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔