نماز کا اعادہ گمان فساد پر
سوال
اگر جماعت کی نماز لوٹائی جائے اس یقین کے ساتھ کہ اولاً نماز نہیں ہوئی اور بعد کو تحقیق ہو جائے کہ اولاً نماز ہوگئی تھی لوٹانا مناسب نہ تھا تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ خصوصاً فجر اور عصر کی نماز میں اگر ایسا اتفاق ہو جب کہ اس کے بعد نفل کا وقت بھی نہیں رہتا۔ نیز اس صورت میں اگر کچھ لوگ جماعت اول میں شریک نہ تھے اور جماعت ثانی میں شریک ہو جائیں تو ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر فجر کی نماز اس یقین کی بناء پر لوٹائی گئی کہ نماز درست نہیں ہوئی اور واقعہ نماز درست ہوگئی تو دوسری مرتبہ ادا کی گئی نماز نفل ہوئی اور نمازی کراہت کے مرتکب نہیں ہوئے۔ وکرہ نفل قصداً. كذا في درمختار على هامش رد المحتار ۳۴۹ ج ۱، اور جولوگ اول نماز میں شریک نہیں تھے اور دوسری مرتبہ ادا کی گئی نماز میں شریک ہوئے ان کی نماز فجر صحیح نہیں ہوئی۔ ان کے ذمہ نماز کا اعادہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔