الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام سے پہلے سانس توڑنے کی بحث

سوال

زید کہتا ہے کہ اگر امام نے دونوں سلام کے اندر سانس توڑ دیا تو کسی کی نماز نہ ہوگی۔ بکر کہتا ہے کہ امام قرآت سے آہستگی سے سلام پھیر لے اور اس کے قبل یعنی امام سے پہلے مقتدی سانس توڑ دے تو جن لوگوں کا سانس ٹوٹا ان کی نماز نہ ہوگی۔ کیا ان دونوں کا کہنا صحیح ہے؟

جواب

دونوں سلام کے درمیان سانس ختم ہو جانے پر دوسرا سانس لینے سے نماز میں نقص نہیں آئے گا۔ امام کے پیچھے مقتدی قرأت نہیں کرتا بلکہ خاموش کھڑا رہتا ہے تو اس کے سانس ٹوٹے کی بحث بے محل ہے۔ البتہ سلام مقتدی بھی پھیرتا ہے۔ اگر امام نے السلام کہا اس کے بعد مقتدی کا سانس ٹوٹ گیا۔ حالانکہ ابھی امام کا سانس باقی ہے تو مقتدی کی نماز صحیح ہو جائے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو