الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سلام قبل الامام سے متعلق تذکرۃ الرشید اور تذکرۃ الخلیل کی عبارتوں میں تعارض

سوال

اگر مقتدی امام سے پہلے کلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ختم کر دے تو نماز فاسد ہو جائے گی یا نہیں۔ اگر نہیں ہوگی تو اس عبارت اور حاشیہ کا کیا مطلب ہے جو کہ تذکرۃ الرشید ص ۱۷۹ میں لکھی ہوئی ہے۔ عبارت یہ ہے۔ اس عنوان کو اس مسئلہ پر ختم کرتا ہوں جس کو حضرت امام ربانی قدس سرہ نے نہایت اہتمام کے ساتھ ارشاد فرمایا اور کہا کہ سننے والے دوسروں کو پہو نچادیں۔ عام لوگ اس کی طرف سے غافل ہیں اور یہ غفلت ان کو بہت نقصان پہو نچا رہی ہے۔

جواب

اگر مقتدی نے امام کے لفظ السلام ختم کرنے کے بعد اپنا سلام شروع کیا ہے تو اس کی نماز درست ہوگئی اگر چہ ورحمۃ اللہ امام سے پہلے ہی ختم کر دیا ہو۔ وتنقضى قدوة بالاول قبل علیکم على المشهور عندنا وعليه الشافعيه درمختار على هامش الشامية ص ۴۳۸، ج ۱، تذكرة الرشید میں جو مسئلہ ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے، وہاں صرف سلام مذکور ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو