الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کی امامت تراویح میں

سوال

اگر کوئی عورت حافظ قرآن ہو تو مثل مردوں کے ختم فی التراویح بصورت امامت اور جماعت نساء اس کے لئے درست ہے یا کسی شرعی قباحت کو ستلزم ہے، اگر کوئی قباحت ہے تو بقاء حفظ کی اہمیت وضرورت بقاعده الضرورات تبيح المحظورات، وبقاعدة” الكراهية ترتفع عند العذر والحاجة اس قباحت پر غالب ہوگی یا نہیں۔

جواب

عبارت منقولہ سے معلوم ہوا کہ عورت کا امام بن کر عورتوں کو نماز پڑھانا مکروہ تحریمی ہے۔ بقائے حفظ کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ خارج نماز میں روزانہ والدہ والد بھائی بہن شوہر اولاد کسی کو سنا دیا کرے اور جتنا سنائے اس کو تراویح یا دوسری نماز میں پڑھ لیا کرے اس سے حفظ بھی باقی رہے گا، اور نمازوں میں طویل قراءت کی عادت بھی ہو جائے گی اور کوئی محظور بھی لازم نہیں آئیگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو