گانے بجانے فحش مجلس اور اسکے روکنے والے امام کا حکم
سوال
ایک قریہ کے لوگوں نے بوقت نماز عشاء بالمقابل مسجد ایک مکان پر باجہ گراموفون لگا کر عوام الناس مذکر ومونث کو ہر قسم کے اور ہر عمر کے جمع کر کے تمام رات ایسی بے حیائی میں گزاری قریہ مذکورہ کے امام نے بایں الفاظ منع کیا، کہ او بے حیاؤ، بے شرموں اور بے سلیقہ کنجرو، دیوثو، تمہیں شرم نہیں آتی کہ بچوں کو جمع کر کے عورتوں کو بھی شامل کرتے ہو یہ اغوا ہو جائیں گے ایسی بے حیائی کی تعلیم دے رہے ہو، آخر قوم نے یوں ہی رات بے ہودگی میں گزاری جیسے کہ مثال کے طور پر ایک مصرع نقل کرتا ہوں۔
جواب
قوم کے یہ افعال شنیعہ ناجائز اور کبیرہ گناہ ہیں، خاص کر غیر کی عورت کو اغوا کر کے مرتد بنانا کفر ہے اگر وہ خدا نخواستہ مرتد ہو کر مسیحی مذہب میں داخل ہوگئی تب بھی مفتی بہ قول کے موافق پہلا نکاح فسخ نہ ہوگا اور اس کو مرتد بنانے والا یا اس کے لئے مشورہ دینے والا کافر ہو جائے گا اس عورت کو اس کے شوہر کے پاس واپس کرنا فرض ہے۔ اسی طرح گانے بجانے وغیرہ حرکات سے بھی توبہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔